اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ اگر دنیا کے دوسرے ملکوں پر بھی ایران سے تیل کی خریداری میں مالی ٹرانزیکشن کے لئے انسٹیکس کے دروازے کھول دیئے جائیں تو ایٹمی معاہدے کے باقی رہنے کا امکان بڑھ جائے گا۔
انھوں نے ایٹمی معاہدے کے تحت ایران کے حالیہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اقدامات ایٹمی معاہدے کے منافی نہیں ہیں بلکہ اس کے تحفظ کے لئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی اقدامات سے معاہدے کے تحفظ کا امکان بڑھ گیا ہے۔
سرگئی ریابکوف نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کے تحت مشترکہ ایکشن پلان کمیشن کے ہنگامی اجلاس میں ایٹمی معاہدے کے تحفظ میں ایرانی اقدامات کے ساتھ ہی انسٹیکس کو حقیقی معنی میں آپریشنل کئے جانے کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
فرانس، برطانیہ، جرمنی اور ایران کی اپیل پر جامع ایٹمی معاہدے کے مشترکہ ایکشن پلان کمیشن کا اجلاس اتوار کو ویانا میں ہو رہا ہے۔
اس اجلاس میں جامع ایٹمی معاہدے سے متعلق سبھی مسائل کا جائزہ لیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کو ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یورپ نے امریکا کے معاہدے سے نکلنے کے اقتصادی نقصانات کی تلافی کے لئے کوئی موثر اقدام نہیں کیا تو ایران نے آٹھ مئ دو ہزار انیس کو یورپ کو ساٹھ دن کی مہلت دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اس مہلت کے اندر اگر یورپ نے اپنے وعدوں پر عمل نہ کیا تو ایٹمی معاہدے کی شق نمبر چھبیس اور چھتیس کے تحت ایران اپنے بعض وعدوں پر عمل درآمد کو معطل کر دے گا۔
یورپ کی دی گئی ساٹھ دن کی مہلت ختم ہونے کے بعد ایران نے سات جولائی دو ہزار انیس کو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کو معطل کرنے کا آغاز کرتے ہوئے یورینئیم کی افزودگی کی شرح تین اعشاریہ چھے سات فیصد سے بڑھا دی۔
ایران نے اسی کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے دوسرے فریقوں نے اپنے وعدے پورے کئے تو ایران اس اقدام کو واپس لے لے گا۔
جامع ایٹمی معاہدے کی شق نمبر چھبیس اور چھتس کے مطابق اگر دوسرے فریق اپنے فرائض اور عہد پر عمل نہ کریں تو ایران کو اپنے وعدوں پر عمل درآمد کو روک دینے کا حق حاصل ہے۔ امریکا کے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد یورپ نے ایران سے جو وعدے کئے تھے ان میں سے ایک انسٹیکس کو آپریشنل کرنا تھا جو اب تک پورا نہیں ہوا ہے۔
/129
28 جولائی 2019 - 11:28
News ID: 965428
جامع ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا ہنگامی اجلاس اتوار کو ویانا میں ہو رہا ہے۔ روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت میں مالی ٹرانزیکشن کا خصوصی سسٹم انسٹیکس اور ایران کے بھاری پانی کا اراک ری ایکٹر کمیشن کے ایجنڈے میں شامل ہے۔